بھٹکل 22؍دسمبر (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66کو فور لین میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بار بار بدل رہا ہے۔ کچھ ہی دنوں پہلے سرپن کٹے سے شیرالی تک شہری حدود میں سڑک کی توسیع 30میٹر تک ہی محدود رکھنے کی بات سامنے آئی تھی۔ مگر تازہ خبروں کے مطابق اب شہری حدود میں صرف 2کیلو میٹر تک 30میٹر اور بقیہ 1.5کیلومیٹر کے علاقے میں یہ توسیع 45میٹر کردی جائے گی۔
بھٹکل میں اس طرح باربارمنصوبے میں تبدیلی کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ ایک طرف دکان و مکان مالکان کی طرف سے سیاسی لیڈروں کے توسط سے نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا پر مختلف زاویوں سے دبائو ڈالا جارہاہے تو دوسری طرف ہائی وے اتھاریٹی افسران ، ٹھیکے دار کمپنی اور سیاسی لیڈران کے بیچ تال میل نہیں ہوپارہا ہے۔
اب ضلع اُترکنڑا کے محکمہ اطلاعات کے آفیسر سے ملی اطلاع کے مطابق بھٹکل میں ’الخلیج ہوٹل‘ سے ’چلّیز ہوٹل‘ تک 2.040کیلومیٹر کے فاصلے میں سڑک کی چوڑائی 30میٹر تک محدود رہے گی، اور بقیہ 1.5کیلومیٹر کے فاصلے میں چوڑائی 45میٹر کی جائے گی۔اور اسی فاصلے میں 300میٹر تک فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا۔اور255میٹر جگہ کو تحویل میں لیتے ہوئے شمس الدین سرکل کی توسیع اور جنکشن کی تعمیر کی جائے گی۔
خیال رہے کہ گزشتہ 15دنوں سے بھٹکل کے عوام میں نیشنل ہائی وے کی توسیع کے لئے مقررہ حدود کو لے کربہت زیادہ الجھن پید ا ہوگئی تھی ،کیونکہ توسیعی منصوبے سے جڑے ہوئے افسران کے بیانات میں بار بار تبدیلیاں دیکھنے کو مل رہی تھیں۔اب جبکہ نئے حدود کے ساتھ تعمیری کام کو ٹھیکے دار کمپنی آئی آر بی نے آگے بڑھایا ہے ، اس لئے سمجھا جاتا ہے کہ یہی منصوبہ قطعی ہوگیا۔
ہائی وے توسیع کو فرقہ وارنہ رنگ: پچھلے دنوں بھٹکل شہر ی حدود اور شیرالی میں سڑک کی چوڑائی 45میٹر سے گھٹاکر 30میٹر کرنے کی بات جب ساحل آن لائن اور دیگر میڈیا میں عام ہوئی تو بھٹکل اور شیرالی کے کچھ افراد نے اس پر افسران کے خلاف سخت ردعمل ظاہرکیا۔ منگلورو میں موجود پروجیکٹ آفیسر کو بھی مسلسل فون کرکے دباؤ ڈالا گیا کہ چوڑائی کم نہ کی جائے اور 45میٹر کے سابقہ منصوبے پر ہی عمل کیا جائے۔کچھ لوگ اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے میں بھی مصروف پائے گئے۔ اور سوشیل میڈیا پرایسی بات بھی پھیلائی گئی کہ بھٹکل میں مسلمانوں کی جائیداد بچانے کے لئے منصوبے میں تبدیلی کی جا رہی ہے۔ الزام یہ بھی لگایاگیا کہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی اور ان کی دولت کے کھیل سے منصوبہ بدل رہا ہے۔ گویاجس طرح اس سے پہلے محکمہ جنگلات کی زمینوں پر مکانات کی تعمیر کے مسئلے کو فرقہ وارانہ رنگ سے دیکھا جارہا تھا بالکل اسی طرح نیشنل ہائی وے کی تعمیر کے مسئلے کو بھی فرقہ وارانہ رنگ دے کر فائدہ اٹھانے کی تخریبی کارروائی شروع کی گئی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ سڑک توسیعی منصوبے کا جورنگ اور ردعمل سامنے آیا ہے اس سے ہائی وے اتھاریٹی کے افسران پوری طرح نمٹ لیں گے یا پھرآئندہ دنوں میں کوئی اور نئی تبدیلی سامنے آئے گی۔